Monday, June 2, 2025

دروازہ مت کھولنا: ایک سچی ہارر کہانی جو آپ کبھی نہیں بھولیں گے

 دروازہ مت کھولنا: ایک سچی ہارر کہانی جو آپ کبھی نہیں بھولیں گے



یہ ایک سرد اکتوبر کی رات تھی۔ شہر "نورآباد" کی گلیاں خالی تھیں۔ تیز ہوا درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ سب لوگ اپنے گھروں میں بند تھے، کیونکہ اگلے دن عید میلادالنبی ﷺ کا جلوس تھا۔


حسنہ (18 سالہ لڑکی) اور اس کا چھوٹا بھائی عبدالرحمٰن (12 سالہ) اپنے نئے گھر میں اکیلے تھے۔ ان کے والدین ایک رشتہ دار کے ولیمے میں گئے تھے، اور بچوں کو منع کیا کہ کسی اجنبی کے لیے دروازہ نہ کھولنا۔


"امی نے کہا تھا کسی کو دروازہ نہ کھولنا،" عبدالرحمٰن نے کہا۔


"پتا ہے، میں بچی نہیں ہوں،" حسنہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔


مگر پھر کچھ ایسا ہوا، جو ان کی پوری زندگی بدل گیا...


دروازے پر پہلا دستک

رات کے تقریباً ساڑھے نو بجے تھے۔ گھر میں خاموشی تھی، صرف قرآن کی تلاوت کی آواز ریکارڈنگ سے چل رہی تھی۔


پھر اچانک…


دھک… دھک… دھک۔


دروازے پر تین آہستہ دستکیں ہوئیں۔


حسنہ نے دروازے کی طرف دیکھا۔ "اتنی رات کو کون؟"



عبدالرحمٰن ڈر گیا۔ "دروازہ مت کھولنا، باجی۔"


حسنہ نے آہستہ سے دروازے کی چھوٹی کھڑکی سے باہر دیکھا… کوئی نہیں تھا۔


پھر بھی، اُس نے دروازہ کھول دیا۔ باہر کچھ نہیں تھا، صرف سرد ہوا اور سنّاٹا۔


دوسری دستک

دس منٹ بعد، پھر وہی آواز:


دھک… دھک… دھک۔


اب کی بار آواز پہلے سے زیادہ بھاری تھی۔


عبدالرحمٰن کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ "یہ کوئی انسان نہیں، باجی۔"


حسنہ نے فوراً تمام کھڑکیاں بند کیں اور دروازہ اندر سے کنڈی لگا دی۔ اُس کا دل بھی اب دھڑک رہا تھا۔


دیواروں میں سرگوشیاں

ابھی گھڑی 10:15 دکھا رہی تھی کہ روشنی بار بار جلنے بجھنے لگی۔ اچانک قرآن کی تلاوت بند ہو گئی، اور ایک عجیب سی سرگوشی سنائی دی:


"دروازہ… مت… کھولو…"


حسنہ نے بھائی کی طرف دیکھا۔ "تم نے بھی سنا؟"


"جی باجی، دیواروں سے آواز آئی ہے۔"


حسنہ نے موبائل اٹھایا اور امی کو کال کی… لیکن سگنل نہیں آ رہا تھا۔


کوئی اندر آ چکا ہے

تبھی کچن سے کسی چیز کے گھسنے کی آواز آئی۔ جیسے کوئی زمین پر رینگ رہا ہو:


سرک… سرک… گھسک…

Every heart deserves a home. Let this help you find the one who makes your soul feel complete



وہ دونوں ڈر کے مارے کمرے میں چھپ گئے۔ حسنہ نے قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔


مگر تبھی، انھیں احساس ہوا کہ بیسمینٹ کا دروازہ کھلا ہے…


"میں نے اسے بند کیا تھا،" حسنہ نے کانپتے ہوئے کہا۔


پرانا راز

عبدالرحمٰن بولا، "میں نے نیٹ پر پڑھا تھا کہ اس گھر میں ایک بابا جی رہتے تھے جنہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو بیسمینٹ میں بند کر دیا تھا اور پھر غائب ہو گئے۔"


"اور تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟" حسنہ چیخ پڑی۔


پھر…


دھک… دھک… دھک۔



اب کی بار دستک بیسمینٹ کے دروازے کے پیچھے سے آ رہی تھی۔


دروازہ آہستہ آہستہ خودبخود کھلنے لگا…


اندھیرے میں چہرہ

دروازے کے پیچھے اندھیرا تھا۔ پھر اچانک ایک چہرہ نظر آیا—سفید، بے جان، سلے ہوئے ہونٹ۔


پھر وہ غائب ہو گیا۔


عبدالرحمٰن کی چیخ نکل گئی۔ وہ دونوں بھاگ کر گیراج میں چھپ گئے۔


حسنہ نے ٹارچ نکالی، بھائی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔


تبھی موبائل پر ایک میسج آیا:


"اب دیر ہو چکی ہے… تم دروازہ کھول چکی ہو۔"


صبح کا سناٹا

اگلی صبح جب والدین گھر واپس آئے، تو دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ٹی وی چل رہا تھا۔ لیکن حسنہ اور عبدالرحمٰن… غائب تھے۔


دیوار پر ایک پیغام خون سے لکھا تھا:


"دروازہ مت کھولنا۔"

Every heart deserves a home. Let this help you find the one who makes your soul feel complete



پولیس آئی، سارا گھر چھان مارا۔ نہ بچے ملے، نہ کسی انسان کے نشانات۔ صرف بیسمینٹ کی دیواروں پر عجیب و غریب علامتیں تھیں۔


اب لوگ کہتے ہیں، ہر سال ربیع الاول کی ان سرد راتوں میں، اُس گھر سے آوازیں آتی ہیں:


"دھک… دھک… دھک…"


اور جو بھی در

وازہ کھولتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔



No comments:

Post a Comment

خوفناک سائے: مینیئن پر نظر ہے

 خوفناک سائے: مینیئن پر نظر ہے کہانی: یہ سرد رات تھی اکتوبر کے مہینے کی، شہر لاہور کے ایک پرسکون علاقے میں۔ گلیاں سنسان تھیں اور لوگ ہالووی...