جھیل کے کنارے کی سرگوشیاں
ایک مختصر پراسرار کہانی
پہاڑوں کے دامن میں ایک پرسکون جھیل کے کنارے، ایک پرانا لکڑی کا کیبن خاموشی سے کھڑا تھا۔ سالوں سے کوئی وہاں نہیں آیا تھا، سوائے ہننا کے، جو ہر موسم گرما میں وہاں چند ہفتے گزارنے آتی تھی۔
اس بار، کچھ مختلف تھا۔
پہلی رات ہی اسے پیانو سے ہلکی ہلکی دُھنیں سنائی دیں۔ کیبن کا پرانا پیانو، جو پچھلے پانچ سال سے بند پڑا تھا، اچانک بجنے لگا۔ پہلے تو ہننا نے سمجھا کہ یہ اس کا وہم ہے — لیکن اگلی رات، پھر وہی دُھن۔ نرم، غمگین، جیسے کوئی بھولا ہوا گیت یاد دلانا چاہتا ہو۔
اس نے پیانو کی طرف دیکھا — گرد آلود، جیسے برسوں سے کسی نے چھوا بھی نہ ہو۔ مگر پھر بھی، دُھن بالکل واضح تھی۔
ہننا نے ایک پرانا ڈائری تلاش کی جو شاید اس کی نانی کی تھی۔ اندر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“اگر وہ دُھن سنو، تو جواب دینا۔”
اگلی رات، ہننا نے پیانو کے پاس بیٹھ کر وہی دُھن بجانے کی کوشش کی۔ جیسے ہی اس نے پہلا نوٹ بجایا، سرد ہوا کی ایک لہر کمرے میں دوڑ گئی، اور ایک خفیف سا سایہ کمرے کے کونے میں نظر آیا۔
“شکریہ…” ایک ہلکی سی سرگوشی سنائی دی، پھر خاموشی چھا گئی۔
اس کے بعد، پیانو نے کبھی آواز نہ نکالی۔
ہننا جانتی تھی — کسی کی روح، شاید کسی یاد یا وعدے سے بندھی ہوئی تھی — اب آزاد ہو چکی تھی۔
