Sunday, June 1, 2025

اندھیرے کا سایہ

اندھیرے کا سایہ


شام کے چھ بج چکے تھے۔ شہر کی گلیاں آہستہ آہستہ سنّاٹے میں ڈھل رہی تھیں۔ رمشا آج پہلی بار اُس علاقے میں آئی تھی جہاں اُس کے چچا کا پرانا مکان تھا۔ ایک سنسان، پرانا، اور بوسیدہ سا گھر، جس کے گرد گھنی جھاڑیاں اور سوکھے درخت کھڑے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ گھر سالوں سے خالی پڑا ہے۔ مگر رمشا کو کچھ کاغذات لینے کے لیے یہاں آنا پڑا۔


رمشا نے گیٹ کھولا، زنگ آلود دروازے کی چیختی ہوئی آواز سن کر اُسے عجیب سا جھٹکا لگا۔ جیسے کوئی اس خاموشی کو توڑنے پر ناراض ہو گیا ہو۔ وہ ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ در و دیوار پر دھول کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ ایک پرانی جھولنے والی کرسی آہستہ آہستہ خودبخود جھول رہی تھی۔ رمشا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔


"یہ سب میرا وہم ہے..." اُس نے خود کو تسلی دی۔

اسی لمحے اُسے اوپر کی منزل سے ہلکی سی چاپ سنائی دی۔ جیسے کوئی دبے پاؤں چل رہا ہو۔ رمشا نے ہمت کر کے سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں۔ ہر قدم کے ساتھ فرش کی چیخ سنائی دیتی تھی۔ جیسے یہ سیڑھیاں بھی چاہتی ہوں کہ کوئی نہ آئے۔


اوپر جا کر رمشا نے ایک دروازہ کھولا۔ کمرہ بالکل سنّاٹے میں تھا، بس ایک کھڑکی سے ہلکی سی چاندنی اندر آ رہی تھی۔ ایک میز پر پرانی تصویریں پڑی تھیں۔ ان میں سے ایک تصویر نے رمشا کو چونکا دیا — ایک کالے لباس میں ملبوس عورت، جس کی آنکھیں بالکل سیاہ تھیں، جیسے خالی خلا ہو۔


پیچھے سے ایک آواز آئی، "کیا تم مجھے دیکھ سکتی ہو؟"

رمشا کے ہاتھ سے تصویر گر گئی۔ وہ مڑ کر پیچھے دیکھنا چاہتی تھی مگر اس کی ٹانگیں جیسے زمین سے جڑ گئیں۔ دل کی دھڑکن کانوں میں گونجنے لگی۔ ہمت کر کے وہ پیچھے مڑی — کوئی نہیں تھا۔


مگر پھر، دروازہ زور سے بند ہو گیا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ رمشا نے موبائل نکال کر فلیش آن کیا، اور جیسے ہی روشنی کی شعاع کمرے میں پھیلی، وہی کالا سایہ دیوار کے کونے میں کھڑا تھا — بالکل ساکت، مگر آنکھیں جیسے جل رہی ہوں۔


رمشا نے چیخنے کی کوشش کی، مگر آواز نہ نکل سکی۔ وہ پیچھے ہٹی، دروازہ کھولنے لگی مگر دروازہ جیسے قفل ہو چکا تھا۔ سایہ آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ سردی میں اضافہ ہوتا گیا، جیسے ہوا جم گئی ہو۔

پھر اچانک… ایک تیز روشنی چمکی — اور سب کچھ غائب ہو گیا۔

The life you deserve is waiting. Start today.


جب رمشا ہوش میں آئی، وہ اپنے چچا کے پرانے دفتر میں تھی۔ سامنے وہی کاغذات رکھے تھے جنہیں لینے وہ آئی تھی۔ سب کچھ جیسے ایک خواب ہو، مگر اُس کے ہاتھ پر ایک سیاہ نشان تھا — بالکل ویسا ہی جیسا اُس سائے کی آنکھوں میں نظر آیا تھا۔


رمشا نے جلدی سے کاغذات سمیٹے اور وہاں سے نکل گئی۔ مگر اُس دن کے بعد، ہر رات اُسے خواب میں وہی سایا نظر آتا ہے۔ جیسے وہ اُسے بلاتا ہو، واپس اُسی پرانے مکان میں۔


No comments:

Post a Comment

خوفناک سائے: مینیئن پر نظر ہے

 خوفناک سائے: مینیئن پر نظر ہے کہانی: یہ سرد رات تھی اکتوبر کے مہینے کی، شہر لاہور کے ایک پرسکون علاقے میں۔ گلیاں سنسان تھیں اور لوگ ہالووی...